تفسیر قرآن اپنے فرقے کے دفاع میں، یا اپنے نظریات کے پرچار کے لیے، یا نظریات مخالف کی رد میں لکھیں گءی ہیں۔ اسی لیے تفسیر قرآن کو مفردات، لغت، فلسفہ، منطق یا روایات و احادیث کی بنیاد پر اٹھایا گیا۔ یوں یہ تفاسیر علم قرآن سے ہٹ کر دیگر علوم میں مقید ہو گءی ہیں۔یوں قرآنی آیات کے مفاہیم سمجھنے میں آسان ہونے کے بجاءے مشکل ہو جاتے ہیں ۔ ہم یہاں مدرسۃ القرآنیہ میں ان خامیوں سے پاک رہتے ہوءے آیات کے مفاہیم پر ایک نءے اسلوب سے بات کریں گے انشاءاللہ۔